لاہور (خِطاب نیوز) جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے سپریم ایگزیکٹو کو واضح پیغام دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی فی الفور ختم نہ کی تو وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کسی بھی صورت ملاقات نہیں کریں گے۔
خِطاب نیوز کے مطابق، صوبائی دارالحکومت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وفاقی الوزراء لیوی ختم نہ کرنے کے بیانات دے رہے ہیں تو ایسے میں وزیراعظم کی جانب سے ملاقات کی دعوت کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟ اگر مذاکرات کا کوئی واضح اور نتیجہ خیز ایجنڈا ہی موجود نہیں تو وزیراعظم ہاؤس جانے کا کوئی جواز نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پہلے اس اضافی پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنے کا اعلان کریں، بصورت دیگر ان سے کوئی نشست نہیں ہوگی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ احتجاجی اقدامات نہ ہونے سے جماعت اسلامی کمزور پڑ گئی ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔
معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ملک میں حکومتی پالیسیوں کے باعث غربت میں بیحد اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ چھ سالوں میں پنجاب میں غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو کہ اِکسٹھ فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ہزاروں اسکولوں کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے۔
سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کراچی کے بلدیاتی و عمومی مینڈیٹ پر تحفظات کا اظہار کیا اور ملک میں کسی بھی ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی سمیت تمام سیاسی قیدیوں اور بالخصوص گرفتار خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اور بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات تک مکمل رسائی فراہم کی جائے۔


