اہلیہ نے جگر کا حصہ عطیہ کرکے آئرش کرکٹر سمی سنگھ کی جان بچا لی

ڈبلن (خطاب نیوز) — آئرلینڈ کے سابق کرکٹر سمی سنگھ نے موت کے منہ سے واپس لوٹنے اور زندگی کے انتہائی مشکل ترین دور سے متعلق بڑا انکشاف کیا ہے۔ اپنے آبائی وطن بھارت پہنچنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ایک میچ کے بعد شدید تھکن کے اگلے ہی روز انہیں تیز بخار ہو گیا جو کسی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ آئرش ڈاکٹرز طویل کوشش کے باوجود بیماری کی اصل وجہ معلوم کرنے میں ناکام رہے اور مسلسل اینٹی بائیوٹک ادویات دیتے رہے، جس کے بعد انہوں نے بھارت میں علاج کروانੇ کا فیصلہ کیا۔

بھارت کے گڑگاؤں کے ایک اسپتال میں طبی معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ مختلف ادویات کے ردعمل کی وجہ سے ان کا جگر تیزی سے کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔ سمی سنگھ کے مطابق اسپتال میں ان کی حالت اتنی بگڑ چکی تھی کہ وہ کوما میں چلے گئے تھے اور انہیں ہوش نہیں تھا، جبکہ فوری طور پر جگر کے عطیہ کنندہ کی شدید ضرورت تھی۔ ایسے بحران کے وقت ان کی اہلیہ اگم دیپ نے آگے بڑھ کر اپنے جگر کا حصہ عطیہ کیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق سرجری میں محض آدھے گھنٹے کی تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی کیونکہ زہریلے مادے پورے جسم میں پھیل رہے تھے۔ کامیاب سرجری کے بعد اب وہ صحتیاب ہو رہے ہیں،تاہم انہیں اب اپنی صحت بحال رکھنے کے لیے تمام عمر روزانہ کی بنیاد پر ادویات استعمال کرنا ہوں گی۔