راولپنڈی (خطاب نیوز) — ترجمان پاک فوج (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انیس ستمبر کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کیے گئے مبینہ آپریشن کے دعووں اور پیش کی گئی کہانی میں واضح تضادات پائے جاتے ہیں، اور یہ پاکستان کے خلاف ایک سوچی سمجھੀ فالس فلیگ کارروائی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی بھی عسکری مہم جوئی یا فالس فلیگ ڈراما رچانے کی کوشش کی، تو اسے ایسا دردناک اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا جسے اس کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
ترجمان پاک فوج نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج نے انیس ستمبر کو کوراگ، یوسمرگ کے علاقے میں مشترکہ سرچ آپریشن کا دعویٰ کیا تھا اور بعد میں ایک شخص کو لشکرِ طیبہ کا مبینہ دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اسے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے ظاہر کیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس شخص کو سابق پاکستانی فوجی اور اسپیشل سروسز گروپ کا اہلکار قرار دینے کی ناکام کوشش کی، تاہم پاکستان نے ان تمام من گھڑت دعوؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو زندہ میڈیا کے سامنے پیش کر دیا، جو اس وقت راولپنڈی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران محمد آصف نے خود بھی بتایا کہ وہ حیات ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ انہیں بھارتی نمبروں سے مسلسل کالز کے ذریعے ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں، مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور عالمی سطح پر بننے والے منفی تاثر سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے جو اقلیتوں کو دبانے اور فیک پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہے۔ ترجمان نے عزم ظاہر کیا کہ افواجِ پاکستان مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور ملکی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


