کیلیفورنیا (خطاب نیوز) — امریکی ریاست کیلیفورنیا میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی شادی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ریاست کے گورنر گیون نیوسم نے نئے قانون پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت اب ریاست میں شادی کے لیے کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر کر دی گئی ہے اور یہ نیا قانون یکم جنوری سے نافذ العمل ہوگا۔ گورنر گیون نیوسم نے اس قانون کو نوجوانوں اور نابالغ افراد کے تحفظ کے لیے ایک طویل عرصے سے زیرِ انتظار اور انتہائی ضروری اقدام قرار دیا ہے۔
اس بل پر دستخط کے موقع پر کورٹنی سٹوڈن بھی موجود تھیں، جن کی سولہ برس کی عمر میں والدین کی رضامندی سے پچاس سالہ ہالی وڈ اداکار ڈگ ہچیسن کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے سرگرم تنظیم ”اَن چینڈ ایٹ لاسٹ“ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس قانون سے قبل کیلیفورنیا میں ہر سال تقریباً نو ہزار لڑکیوں کی کم عمری میں شادیاں کر دی جاتی تھیں، جن میں سے تقریباً تمام تر شادیاں بالغ مردوں کے ساتھ ہوتی تھیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکہ کی کئی دیگر ریاستوں میں اب بھی کم عمری کی شادی کی کسی نہ کسی شکل میں قانونی اجازت موجود ہے، اور اس طرح کی کم عمر شادیوں کے نتیجے میں گھریلو بدسلوکی اور استحصال کے سنگین واقعات بھی مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔


