چچا کی جائیداد میں پہلے فوت ہونے والے بھائی کے بچوں کا وراثتی حق نہیں آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

اسلام آباد (خطاب نیوز) — آئینی عدالت نے وراثتی جائیداد سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پہلے فوت ہونے والے بھائی کے بچوں کو چچا کی جائیداد میں نمائندگی کے اصول کے تحت وراثتی حق حاصل نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 کا اطلاق صرف پہلے فوت ہونے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد تک محدود ہے، اور اسے بھائی کی اولاد تک توسیع نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حنفی قانون وراثت کے تحت ورثا کی قانونی درجہ بندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور محض خونی رشتہ داری کسی شخص کو وراثت کا حق دار نہیں بناتی۔ فیصلے کے مطابق جو بھائی متوفی سے پہلے فوت ہو جائے، وہ خود جائیداد کا وارث نہیں بنتا، اس لیے اس کی اولاد کو بھی اپنے والد کے نام پر چچا کے ترکے میں کوئی مقررہ حصہ نہیں مل سکتا۔

آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا 18 مارچ 2026 کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزاروں کی اپیل مسترد کر دی اور قرار دیا کہ طویل تاخیر کے بعد حتمی عدالتی کارروائی کو دوبارہ کھولنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں ہے۔