یروشلم کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں قابلِ تشویش ہیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا نیویارک میں دوٹوک مؤقف

نیویارک (خطاب نیوز) — نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یروشلم کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی تمام کوششیں انتہائی قابلِ تشویش ہیں۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ اور حرم الشریف کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے نیویارک میں عرب لیگ اور چار اسلامی ممالک (پاکستان، ترکیہ، ملائیشیا اور انڈونیشیا) کے مشترکہ وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ اردن کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس 5 اگست 2026 کو عمان میں یروشلم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کا تسلسل تھا، جس میں مقدس مقامات کے تحفظ اور فلسطینی مسئلے کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر اردن کی ہاشمی سرپرستی کی مستقل حمایت کرتا ہے اور مسجد اقصیٰ کے تقدس کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ اجلاس کے شرکاء نے خطے کی تازہ ترین صورتحال اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔