تحریر: گل میرخان کاکڑ (اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفس چمن)
چمن (خطاب نیوز) کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف بلند عمارتوں، سڑکوں اور معاشی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ اس کے نوجوانوں کی فکری تربیت، تعلیمی شعور، تخلیقی صلاحیتوں اور اپنی تہذیبی شناخت سے وابستگی سے ہوتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو چمن میں منعقد ہونے والے دو روزہ “چمن ایجوکیشنل فیسٹیول” کو محض ایک تعلیمی سرگرمی سے بڑھ کر ایک جامع سماجی، تعلیمی اور ثقافتی کاوش بناتی ہے۔ اس منفرد فیسٹیول نے تعلیم، علم، کیریئر، ہنر، روزگار، کھیل، فن اور ثقافت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کر کے نوجوان نسل کو کتاب کے علم کے ساتھ عملی زندگی کے تقاضوں اور اپنی ثقافتی شناخت کو سمجھنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اس فیسٹیول کا انعقاد ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی اور ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ شہید ایمل خان اچکزئی بوائز ڈگری کالج چمن اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج چمن میں کیا گیا۔ فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح کمانڈر چمن اسکاؤٹس بریگیڈیئر زرار احمد، ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فدا بلوچ اور قبائلی عمائدین نے کیا، جبکہ اس میں طلبہ و طالبات، اساتذہ، پروفیسرز، ماہرینِ تعلیم، سکالرز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔
تعلیم سے آگے، مستقبل کی تیاری
فیسٹیول کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ یہاں تعلیم کو صرف نصابی کتابوں اور امتحانات تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ طلبہ کو عملی زندگی کے مختلف پہلوؤں، کیریئر کے انتخاب، جدید ہنر اور روزگار کے بدلتے ہوئے مواقع سے روشناس کرایا گیا۔ ماہرینِ تعلیم کی جانب سے کیریئر گائیڈنس لیکچرز دیے گئے، جبکہ بلوچستان کی مختلف جامعات میں داخلوں، اسکالرشپس اور تعلیمی مواقع سے متعلق معلوماتی اسٹالز قائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ سائنس، آرٹ اور کتابوں کی نمائش، تقریری و کوئز مقابلوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتوں نے نوجوانوں کو عملی زندگی کے تقاضوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کتاب سے کردار تک
تعلیم کا مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، فیصلہ کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ فیسٹیول میں کتابوں کی نمائش اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے مطالعے کی عادت اور مثبت سوچ کے فروغ پر توجہ دی گئی۔ یہ سرگرمیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں نوجوان صرف ملازمت کے متلاشی نہ ہوں بلکہ علم، ہنر اور تخلیق کے ذریعے معاشرے کی تعمیر کریں۔
تعلیم کے ساتھ ثقافت کا رنگ
چمن ایجوکیشنل فیسٹیول کی سب سے خوبصورت خصوصیت “پشتون کلچر ڈے” کا انعقاد تھا، جس نے فیسٹیول میں علم کے ساتھ ثقافت کے رنگ بھی بھر دیے۔ اس موقع پر پشتون قوم کی قدیم روایات، تہذیبی اقدار، روایتی لباس، دستکاری، علاقائی کھانوں، فنون اور روایتی کھیلوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ ثقافتی سرگرمیوں میں روایتی غیڑ کے شاندار مقابلے (جس میں اچکزئی اور نورزئی قبائل کی ٹیموں نے حصہ لیا)، رسہ کشی، روایتی اتّھ، کلاسیکی پشتون تلوار رقص، میوزیکل شو اور فٹبال فائنل نے شرکاء کو محظوظ کیا۔ ثقافتی اسٹالز پر روایتی اشیاء کی نمائش نے ماضی کی روایات کو موجودہ نسل کے سامنے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔
نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ڈپٹی کمشنر کا مؤقف
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ چمن کے نوجوان باصلاحیت اور روشن مستقبل کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں صرف درست سمت اور مناسب مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام اداروں، قبائلی عمائدین، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایسے مواقع مستقبل میں بھی فراہم کیے جائیں گے۔
اختتام
چمن ایجوکیشنل فیسٹیول دراصل ایک ایسی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے جس میں ایک ہاتھ میں کتاب، ذہن میں علم، نگاہوں میں مستقبل اور دل میں اپنی ثقافت کی محبت موجود ہے۔ یہ فیسٹیول اس بات کی علامت ہے کہ جدید تعلیم اور قدیم روایات ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک متوازن اور باوقار معاشرے کے دو اہم پہلو ہیں۔ چمن کی سرزمین پر منعقد ہونے والی اس سرگرمی نے ثابت کر دیا کہ علم روشنی ہے، ہنر طاقت ہے اور ثقافت وہ شناخت ہے جو انسان کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتی ہے۔


