اسلام آباد (خطاب نیوز) پاکستان نے پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شناخت شدہ ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی کارروائیاں کی ہیں، جہاں سے دہشتگرد پاکستان میں دراندازی اور حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بیس اور اکیس ستمبر کی درمیانی شب کی گئی ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد دہشتگردوں کے انفراسٹرکچر کو بنجر بنانا، سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کو روکنا اور ملک میں ممکنہ حملوں کا سدباب کرنا تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین طویل عرصے سے ٹی ٹی پی کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جس کی تصدیق اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس بھی کرتی ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہ افغان سرزمین کو تربیت، منصوبہ بندی اور پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز پر اس معاملے کو اٹھایا اور افغان انتظامیہ سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا، تاہم بدستور کارروائی نہ ہونے پر پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت یہ اقدام اٹھایا ہے۔


