کوئٹہ (خطاب نیوز) — بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سال 2017-18 سے 2021-22 کے اربوں روپے کے مالیاتی حساب کتاب اور کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اجلاس چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری اسمبلی، ڈی جی آڈٹ اور اسپیشل سیکرٹری صحت نے شرکت کی۔ کمیٹی نے بتایا کہ سول اسپتال کوئٹہ کو فراہم کردہ 10,443 ملین روپے میں سے 9,576 ملین روپے خرچ کیے گئے، تاہم محکمہ صحت اور اسپتال حکام آڈٹ پیراز اور حساب کتاب کا مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں۔
خصوصی آڈٹ کے دوران 30.016 ملین روپے کی ادویات کی غیر قانونی خریداری اور مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات غائب ہونے کی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ آڈٹ رپورٹس کے مطابق سپلائی آرڈر پشاور کی ایک مینوفیکچرنگ فرم کے نام جاری ہوا جبکہ کروڑوں کی ادائیگی کوئٹہ کی ایک اور ڈسٹری بیوٹر فرم کو کر دی گئی، جس کا اسٹاک رجسٹر اور ڈلیوری چالان میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
چیئرمین PAC نے محکمے کو آخری 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تمام ریکارڈ نہ دیا گیا تو معاملہ قومی احتساب بیورو (NAB) کو بھیجنے اور ایف آئی آر درج کرانے کی سفارش کی جائے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کارکردگی زمینی سطح کے بجائے صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے، جبکہ معطل ملازمین کی دفاتر میں حاضری انتظامی کمزوری کا ثبوت ہے۔ کمیٹی نے اس تمام صورتحال سے چیف سیکرٹری بلوچستان کو تحریری طور پر آگاہ کرنے اور معاملہ صوبائی اسمبلی میں اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔


