لاہور (خِطاب نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے معروف فنکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
خِطاب نیوز کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عبہر گل خان نے رمشا اقبال کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت کے بعد اپنا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔ یاد رہے کہ رمشا اقبال نے سیشن عدالت کے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
دورانِ سماعت ایک صوبائی اسمبلی کے رکن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رمشا اقبال کے بینک کھاتے میں مختلف تاریخوں پر اسّی لاکھ روپے جمع کروائے گئے تھے۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا یہ رقم قرض کے طور پر دی گئی تھی یا دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر جمع کرائی گئی؟ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ رقم امانت کے طور پر دی گئی تھی کیونکہ رمشا نے بیرون ملک سفر کرنا تھا اور بینک گوشوارے کو بہتر بنانے کے لیے یہ رقم ڈالی گئی تھی۔ اس دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ فنکارہ مومنہ اقبال کی اس سیاستدان کے ساتھ منگنی ہوئی تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اتنی بڑی رقم کی منتقلی کے حوالے سے کوئی تحریری معاہدہ کیا گیا تھا؟
دوسری جانب، رمشا اقبال کا اپنے مؤقف میں کہنا تھا کہ جس رقم کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ اسے بہت پہلے یعنی سن دو ہزار بائیس میں ہی اپنے بینک کھاتے سے نکال چکی تھیں۔ ہائیکورٹ نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد سیشن عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا


