نیویارک (خطاب نیوز) — پاکستانی نڑاد امریکی ماہر امراضِ قلب پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد نے کہا ہے کہ ہارٹ اٹیک بظاہر اچانک آتا ہے، تاہم دل کی بیماری راتوں رات پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے بننے کے عمل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ ورلڈ ہارٹ ڈے کے حوالے سے منعقدہ طبی کیمپ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے علاج کے بجائے احتیاط اور بروقت تشخیص کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر اعجاز احمد نے مشورہ دیا کہ بلڈ پریشر اور شوگر کی بروقت جانچ کو معمول کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ شریانوں میں تبدیلیوں کا عمل بعض افراد میں بیس سے تیس سال کی عمر سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف بڑے ہسپتالوں پر انحصار کرنے کے بجائے بنیادی سطح پر جانچ کا مؤثر نظام قائم کرنا چاہیے، اور اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ مستقبل میں ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کیسے کم کیا جائے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر اعجاز نے بروکلین میں ایک فلاحی ہسپتال بھی قائم کر رکھا ہے جہاں پاکستانیوں سمیت تمام ضرورت مند شہریوں کو دل کے امراض کی تشخیص، سٹنٹنگ اور دیگر طبی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جاتی ہیں۔


